Category: Featured

  • کینیڈا میں تارکینِ وطن خاندانوں میں گھریلو تشدد

    کینیڈا میں تارکینِ وطن خاندانوں میں گھریلو تشدد

    کینیڈا میں تارکینِ وطن خاندانوں میں گھریلو تشدد

    گھریلو تشدد اس رویے کو کہا جاتا ہے جس میں ایک شخص دوسرے پر طاقت اور کنٹرول حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے بار بار ظلم یا زیادتی کرتا ہے۔ یہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتا ہے اور ہر عمر، جنس اور پس منظر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ گھریلو تشدد عموماً شادی، تعلقات یا ساتھ رہنے کے رشتوں میں پیش آتا ہے۔

    گھریلو تشدد جسمانی، جذباتی، جنسی، مالیاتی اور نفسیاتی صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ کینیڈا میں تارکینِ وطن خاندانوں کے اندر گھریلو تشدد کی شرح ایک سنگین مسئلہ ہے۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ اکثر کیسز رپورٹ نہیں ہوتے اور معاملہ پیچیدہ ہے۔

    اسٹیٹسٹکس کینیڈا کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈا میں ہر تین میں سے ایک عورت نے 16 سال کی عمر کے بعد اپنے شریکِ حیات یا قریبی ساتھی کے ہاتھوں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کیا ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں، لیکن مرد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا میں تارکینِ وطن خواتین کو عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    تارکینِ وطن خاندانوں کو گھریلو تشدد کے دوران منفرد مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان میں زبان کی رکاوٹیں، ثقافتی فرق، قانونی حیثیت کے خدشات، دستیاب وسائل سے ناواقفیت اور ملک بدر ہونے کا خوف شامل ہیں۔ سماجی تنہائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ زبان اور ماحول سے ناواقفیت متاثرہ افراد کو مدد لینے سے روکتی ہے۔ بعض خاندانوں میں سخت صنفی اصول اور ثقافتی توقعات خواتین کو ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہیں تاکہ خاندان کی عزت برقرار رہے۔

    غیر یقینی قانونی حیثیت رکھنے والے افراد اکثر پولیس یا سماجی اداروں سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ زبان کی رکاوٹیں انہیں شیلٹرز، مشاورت یا قانونی مدد تک رسائی سے محروم کرتی ہیں۔ بہت سے تارکینِ وطن کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کینیڈا میں ان کے لیے کون سی سہولتیں موجود ہیں۔ مالی انحصار بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ متاثرہ خواتین اکثر اپنے شوہر پر مالی طور پر انحصار کرتی ہیں۔

    پناہ گزین خواتین، خاص طور پر وہ جو جنگ یا تشدد سے بھاگ کر آئی ہیں، پہلے سے صدمے کا شکار ہوتی ہیں، جس سے وہ مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔ یہ خواتین کینیڈا میں محفوظ رہنے یا مدد حاصل کرنے میں اضافی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔

    کینیڈا میں کئی تنظیمیں اور اقدامات موجود ہیں جو تارکینِ وطن متاثرین کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ثقافتی طور پر موزوں مشاورت، زبان کی مدد اور قانونی معاونت شامل ہیں۔ قانونی امداد متاثرہ افراد کو اپنے حقوق سمجھنے اور حفاظتی احکامات حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کچھ شیلٹرز خاص طور پر تارکینِ وطن خواتین اور بچوں کے لیے بنائے گئے ہیں، جو محفوظ جگہ اور ان کی زبان میں سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ قومی اور صوبائی ہاٹ لائنز بھی خفیہ مدد فراہم کرتی ہیں، اور بعض میں کثیر لسانی سہولتیں موجود ہیں۔

    کینیڈا میں تارکینِ وطن خاندانوں کے اندر گھریلو تشدد ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس کے حل کے لیے کمیونٹی اور حکومت دونوں کو ثقافتی طور پر حساس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید تعلیم، آگاہی اور قابلِ رسائی سہولتیں ضروری ہیں تاکہ متاثرہ افراد محفوظ محسوس کریں اور ظلم سے آزاد ہو سکیں

  • کینیڈا کی سردیوں کی تیاری: مکمل رہنما

    کینیڈا کی سردیوں کی تیاری: مکمل رہنما

    کینیڈا کی سردیوں کی تیاری: مکمل رہنما

    کینیڈا کی سردی دنیا کی سرد ترین اور طویل ترین سردیوں میں شمار ہوتی ہے۔ برفباری، منفی درجہ حرارت، اور تیز ہوائیں نہ صرف روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان کے لیے مکمل تیاری بھی ضروری ہوتی ہے۔ خاص طور پر نئے آنے والوں یا پہلی بار کینیڈا میں سردی کا سامنا کرنے والوں کے لیے یہ تجربہ بہت چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔

    یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ آپ موسم سرما کے آغاز سے پہلے کون کون سی تیاریاں کر سکتے ہیں تاکہ آپ اور آپ کا خاندان سرد موسم میں محفوظ، پُرسکون اور گرم رہیں۔

    موسم کی شدت کو سنجیدہ لیں

    کینیڈا میں نومبر سے مارچ تک کا وقت شدید سردی کا ہوتا ہے، اور کچھ علاقوں میں درجہ حرارت -30 ڈگری سیلسیئس تک بھی گر سکتا ہے۔ برفباری، آئس اسکریپنگ، اور سڑکوں پر پھسلن عام بات ہے۔

    موسم کی اپ ڈیٹس کے لیے The Weather Network یا Environment Canada کی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

    مناسب سردیوں کا لباس خریدیں

    سردی سے بچاؤ کے لیے بہترین حکمت عملی “لیئرنگ” ہے، یعنی کئی تہوں میں لباس پہننا۔

    لازمی اشیاء

    ونٹر کوٹ (Waterproof اور Insulated)
    تھرمل انڈر ویئر
    گرم موزے (Wool یا Thermal)
    ٹوپی، دستانے، اور مفلر
    سنو بوٹس (Waterproof اور نان-سلِپ سول کے ساتھ)

    کہاں سے خریدیں
    Walmart
    Costco
    Sport Chek
    MEC (Mountain Equipment Company)
    Winners یا Value Village (کم قیمت سیکنڈ ہینڈ)

    گھر کی تیاری کریں
    سردیوں میں گھر کو گرم اور محفوظ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

    گھریلو تیاریوں کی فہرست
    ونڈوز پر Weather Stripping یا پلاسٹک لگائیں تاکہ ٹھنڈی ہوا نہ آئے۔
    ہیٹر یا Furnace کی سروس کروائیں۔
    Space Heater خریدیں (خاص طور پر بیسمنٹ کے لیے)
    Humidifier کا استعمال کریں تاکہ خشک ہوا سے جلد اور گلا خراب نہ ہو
    اگر آپ کے گھر میں پائپ ایکسپوزڈ ہیں توPipe Insulation لازمی کریں تاکہ وہ جم نہ جائیں

    گاڑی کی سردیوں کی تیاری

    اگر آپ گاڑی استعمال کرتے ہیں، تو سردیوں میں اس کی خاص دیکھ بھال ضروری ہے۔

    چیک لسٹ
    Winter Tires لگوائیں (اکتوبر کے آخر تک)
    گاڑی میں آئس اسکریپر، سنو برش، اور ونڈ شیلڈ واشر فلوئڈ رکھیں
    بیٹری اور ہیٹر چیک کروائیں
    ایمرجنسی کٹ رکھیں: کمبل، فلیش لائٹ، پانی، سنیکس، اور پاور بینک

    بچوں کی حفاظت اور تیاری

    بچے سردیوں میں زیادہ حساس ہوتے ہیں، خاص طور پر اگر وہ اسکول جاتے ہیں۔

    بچوں کے لیے ضروری اشیاء

    اسنو سوٹ
    واٹر پروف گلوز اور بوٹس
    بیک اپ دستانے اور جرابیں (اسکول بیگ میں رکھیں)
    لیبل شدہ لباس تاکہ اسکول میں کھو نہ جائے

    سردیوں میں سرگرمیاں

    سردیوں کو صرف مشکل نہ سمجھیں — یہ تفریح کا بھی موسم ہے!

    مشہور سرگرمیاں

    سکیئنگ اور اسنوبورڈنگ
    آئس اسکیٹنگ
    سنو مین بنانا
    ہاٹ چاکلیٹ کے ساتھ فلم نائٹس
    ونٹر فیسٹیولز (جیسے Ottawa Winterlude)

    زیادہ تر سرگرمیاں مقامی کمیونٹی سینٹرز، اسکولوں یا سٹی ویب سائٹس پر اعلان ہوتی ہیں۔

    کھانے پینے اور اشیائے ضرورت کا ذخیرہ

    برفباری کے دوران باہر جانا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے چند دن کا ذخیرہ رکھنا دانشمندی ہے۔

    اسٹاک میں رکھیں

    خشک راشن: دالیں، چاول، پاستا
    ڈبہ بند اشیاء: سوپ، ٹماٹر، بینز
    دودھ، انڈے، اور بنیادی سبزیاں
    فرسٹ ایڈ کٹ اور ضروری ادویات
    ٹارچ، موم بتیاں، اور بیٹریز

    دماغی صحت کا خیال رکھیں

    کینیڈا کی طویل سردیاں کبھی کبھی اداسی یا تنہائی کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر نئے تارکین وطن کے لیے۔

    تجاویز

    سورج کی روشنی کم ہونے پر Vitamin D کا استعمال کریں
    کمیونٹی ایونٹس میں شرکت کریں
    دوستوں اور فیملی سے رابطے میں رہیں
    اگر ضرورت ہو تو کینیڈا میں دستیاب مفت مینٹل ہیلتھ سپورٹ سے فائدہ اٹھائیں

    کینیڈا کی سردی یقینی طور پر سخت ہو سکتی ہے، لیکن اگر آپ جسمانی، مالی اور ذہنی طور پر تیار ہوں، تو یہ موسم آپ کے لیے یادگار بھی بن سکتا ہے۔
    گرم کپڑے، باقاعدہ منصوبہ بندی، اور مثبت سوچ آپ کو محفوظ اور پُرسکون موسم سرما فراہم کر سکتی ہے۔

  • نوجوانوں کو خودمختار بنانے کی تربیت: کینیڈین والدین کے لیے زندگی کی مہارتیں اور اعتماد پیدا کرنے کی رہنمائی

    نوجوانوں کو خودمختار بنانے کی تربیت: کینیڈین والدین کے لیے زندگی کی مہارتیں اور اعتماد پیدا کرنے کی رہنمائی

    اپنے نوعمر بچے کو زیادہ خودمختار بنانا ان کی بالغ زندگی کی تیاری کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ نوعمری وہ وقت ہے جب زندگی کے ہنر، ذمہ داری اور فیصلہ سازی جیسی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ اس دوران والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خود کفیل بننے میں رہنمائی فراہم کریں جبکہ ایک معاون اور مثبت رشتہ بھی برقرار رکھیں۔ کینیڈا میں، جہاں سماجی اور ثقافتی عوامل نوجوانوں میں ذاتی ذمہ داری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، آپ صبر، مضبوطی اور منظم طریقہ کار کے ذریعے اپنے بچے میں خودمختاری پیدا کر سکتے ہیں۔

    اپنے بچے کو گھر میں ذمہ داری لینے کی ترغیب دینا خودمختاری کی تربیت کا مؤثر طریقہ ہے۔ چھوٹے کاموں سے آغاز کیا جا سکتا ہے، جیسے اپنا کپڑا دھونا، کھانا بنانے میں مدد کرنا یا اپنا کمرہ صاف رکھنا، اور وقت کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں جیسے خریداری کرنا یا اپنا شیڈول خود بنانا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکول کا کام منظم کرنا، وقت کا بہتر استعمال اور کاموں کی ترجیحات طے کرنا بھی انہیں ذاتی نظم و ضبط سکھاتا ہے، جس سے احساسِ ذمہ داری اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

    مالیاتی آگاہی بھی بالغ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ باقاعدہ جیب خرچ دینے سے بچے اپنی آمدنی کا بجٹ بنانا سیکھتے ہیں جبکہ اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوانا انہیں اخراجات، بچت اور کارڈ کے استعمال کی سمجھ دیتا ہے۔ پارٹ ٹائم یا موسمِ گرما کی ملازمت انہیں عملی زندگی کا تجربہ فراہم کرتی ہے اور اپنے پیسے کی قدر سکھاتی ہے۔

    فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں کو کپڑوں، مشاغل یا سماجی سرگرمیوں کے انتخاب کی آزادی دینے سے وہ سوچنے اور ذمے داری لینے کے قابل بنتے ہیں۔ مسائل کا حل خود تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے سے وہ اعتماد حاصل کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔

    خود نمائندگی، یعنی اپنے لیے بات کرنے کی صلاحیت، بھی اہم ہے۔ اساتذہ، کوچز یا دیگر افراد کے سامنے مؤثر انداز میں گفتگو کرنا اور ضرورت پڑنے پر خود مدد مانگنا وہ صلاحیت ہے جو بالغ زندگی میں بہت کام آتی ہے۔ والدین اگر خود اس کی مثال بنیں تو بچے بہتر سیکھتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی بنیادی زندگی کے ہنر بھی سکھانا ضروری ہے، جیسے سادہ کھانے بنانا، خریداری کرنا، گھر کی دیکھ بھال جیسے لائٹ بلب تبدیل کرنا یا لیکی نل درست کرنا، اور اگر گاڑی استعمال ہوتی ہے تو تیل چیک کرنا یا ٹائر بدلنا وغیرہ۔ ان ہنروں سے نوجوان روزمرہ زندگی میں خود کفیل بنتے ہیں۔

    سماجی خودمختاری بھی اہم ہے۔ بچوں کو اپنے دوستوں کے ساتھ خود منصوبے بنانے کی آزادی دینا اور تنازعات حل کرنے کی تربیت دینا انہیں صحت مند تعلقات قائم کرنے اور سماجی طور پر مضبوط بننے میں مدد دیتا ہے۔

    تعلیمی اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی میں رہنمائی دینا بھی خودمختاری کا حصہ ہے۔ مستقبل کے مقاصد، کیریئر کے انتخاب، دلچسپیوں اور صلاحیتوں پر بات کرنا، پارٹ ٹائم کام یا رضاکارانہ خدمات کی حوصلہ افزائی کرنا، اور یونیورسٹی، کالج یا ٹریڈ اسکولز کے بارے میں معلومات دینا نوجوانوں کو عملی قدم اٹھانے کے قابل بناتا ہے۔

    خودمختاری کے لیے بچوں کی نجی زندگی کا احترام کرنا ضروری ہے۔ انہیں اپنا کمرہ منظم کرنے اور ذاتی فیصلے کرنے کی آزادی دینا اور قواعد میں لچک دکھانا انہیں ذمہ داری کے ساتھ آزادی استعمال کرنے کی تربیت دیتا ہے۔

    والدین کی مدد اور رہنمائی ضروری ہے، لیکن حد سے زیادہ مداخلت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ کامیابی پر تعریف کرنا اور ناکامی کی صورت میں مثبت رہنمائی فراہم کرنا نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ مسائل خود حل کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر والدین ان کی مدد کے لیے موجود ہیں۔

    آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ نوجوان کو خود مختار بنانا ایک تدریجی عمل ہے جو صبر، رہنمائی اور آزادی کے توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ زندگی کے ہنر سکھا کر، ذاتی ذمہ داری بڑھا کر، اور صحت مند خودمختاری پیدا کر کے آپ اپنے بچے کو اعتماد اور صلاحیتوں کے ساتھ مستقبل کا سامنا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

  • To the Ends of the Earth: Local Radio Host Mitch Snaden Returns from a Global Adventure

    To the Ends of the Earth: Local Radio Host Mitch Snaden Returns from a Global Adventure

    By Devan Mighton, Local Journalism Initiative Reporter, Tilbury Times Reporter

    Stoney Point resident Mitch Snaden has been on a journey. A former radio host in Essex and Kent counties with CHUM Group and Blackburn Media, he was last heard on the airwaves with Kara Ro on Windsor’s Country.

    Thirty-five years ago, he started to get serious about sail boating, and when a friend of his purchased at 24-ft. C&C, they shared sailing times together for years.

    This January, Snaden made the journey of a lifetime, sailing from Thailand to Sri Lanka for two months as a part of a crew.

    “There were major changes happening in my life when I came across a post on Facebook from the people, Shawn Dear and Ally Cochrane, I ended up sailing with,” explains Snaden. “Their story intrigued me as they are circumnavigating and were, and still are, looking for crew to experience this trip with them. Every month is a leg and up to six people can join them each month to be part of the adventure. I chose to meet them in Phuket, Thailand and stay for two months, January and February. I departed from the ship in Galle, Sri Lanka.”

    As he recalls his odyssey across Indochina, Snaden described his trip as one of soul-searching, of self-discovery. He says that the ship was biggest highlight of the trip to him, riding upon a 42-ft. Catamaran in the open ocean.

    “We had a crew of six on the first leg from Phuket to the Andaman Islands,” he describes. “Shawn and Ally, of course, owners of the boat, myself, a young lady from New Zealand and a married couple who were from Holland and Russia – but call Bulgaria home.”

    He says that each leg lasted 25 days, and at the end of each leg, the crew departs while the owners prep for the next go. After five layover days, a new crew boards for the first of the month.

    It was a magical adventure. Snaden saw pilot whales and their ship was often frequented by dolphins. They island hopped while in Thailand and the Andaman Islands, dropping anchor to snorkel and see the copious coral life. He says that there were numerous secluded white sand beaches and the beautiful blue waters reached as far as the eyes could see.

    “Sunsets and sunrises, as well moon rises and sets, were spectacular and when there was no moon, the stars filled the skies,” he recalls. “Being on the helm at 2 a.m. on a two-hour night watch is a humbling experience, as you realize just how insignificant you are in this universe.”

    He met many fascinating people on his voyage.

    “On the second leg of my trip, from the Andaman Islands to Sri Lanka, our crew saw the arrival of a couple from South Africa and Italy who met in their 20’s when they were in France on ski holidays, dated for awhile, and then separated for 30 years. Then, because life is filled with circumstances, they reunited and now are together again.”

    Before leaving, they spent a day familiarizing themselves with the boat and learning the ground rules for surviving 25 days together in close quarters.

    “Our open-water trips lasted for three days and four nights from Thailand to the Andaman Islands,” he recalls. “We landed in their major town called Port Blair, which had both Allied and Japanese occupation during World War 2. There are remnants of those occupations through the archipelago of islands around Port Blair. The port is a major naval base for the Indian Navy, so there is a lot of official boat traffic. We were boarded numerous times by various authorities in the short time we were anchored in Port Blair. Certainly not a highlight of the trip.”

    He says that the trip from Port Blair to Sri Lanka took almost eight nights.

    “We dropped anchor just as the sun was setting on the eighth evening,” says Snaden. “[There were] full days where all you could see was water. No other boats on the seas until the last day, as we approached Sri Lanka. It’s an amazing feeling to look out and see no other humans.”

    As every country has different rules and customs, the crew were not allowed to roam around the Sri Lankan coast looking for secluded spots, so they had to tie up to the jetty at the main harbour in Galle.

    He says that the journey brought him peace and a greater appreciation for all the people in his life, as well as a realization of how lucky he has been.

    Snaden hopes to rejoin Shawn and Ally on their boat, SY Imagination, when they arrive back in the Caribbean in 2026. However, he doesn’t plan to rest on his laurels, as he is on the lookout on social media for other people looking for crew members that he can help out and join in their adventures as well.