Author: ویب ڈیسک
-

کینیڈا میں آئندہ انتخابات اور مسلم کمیونٹی: ٹرمپ کی ممکنہ صدارت کے تناظر میں
کینیڈا میں 2025 میں ہونے والے وفاقی انتخابات ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے لیے جو اس ملک میں نہ صرف تیزی سے بڑھ رہی ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی زیادہ متحرک ہو رہی ہے۔ اسی دوران امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی عالمی سطح پر مسلم کمیونٹیز میں خدشات اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ٹرمپ کی پچھلی صدارت کے دوران مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیانات، پالیسیز اور سفری پابندیوں نے دنیا بھر میں ایک خاص عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا تھا، جس کے اثرات کینیڈا میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی پڑے۔ -

دنیاؤں کے درمیان: جنوبی ایشیائی نوجوانوں کا ثقافتی توازن
کینیڈا — ایک ایسا ملک جو اپنی کثیر الثقافتی شناخت پر فخر کرتا ہے — دنیا بھر سے آئے ہوئے افراد کا گھر ہے۔ ان ایک بڑی تعداد جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی ہے، جو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک سے آ کر یہاں بسے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ساتھ رسم و رواج، زبان، مذہب، اقدار اور طرزِ زندگی لائے، جن کا اثر آج کینیڈین معاشرے میں نمایاں نظر آتا ہے
-
کینیڈا میں آئندہ انتخابات اور مسلم کمیونٹی: ٹرمپ کی ممکنہ صدارت کے تناظر میں
کینیڈا میں آئندہ انتخابات اور مسلم کمیونٹی: ٹرمپ کی ممکنہ صدارت کے تناظر میںکینیڈا میں 2025 میں ہونے والے وفاقی انتخابات ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے لیے جو اس ملک میں نہ صرف تیزی سے بڑھ رہی ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی زیادہ متحرک ہو رہی ہے۔ اسی دوران امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی عالمی سطح پر مسلم کمیونٹیز میں خدشات اور سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ٹرمپ کی پچھلی صدارت کے دوران مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیانات، پالیسیز اور سفری پابندیوں نے دنیا بھر میں ایک خاص عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا تھا، جس کے اثرات کینیڈا میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی پڑے۔اب، جب کہ ایک طرف امریکہ میں ٹرمپ کی سیاست دوبارہ زور پکڑ رہی ہے اور دوسری طرف کینیڈا میں انتخابی مہم کی تیاریاں جاری ہیں، یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ ان دونوں عناصر کا کینیڈا کی مسلم کمیونٹی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔مسلم کمیونٹی: ایک ابھرتی ہوئی قوتکینیڈا میں مسلم کمیونٹی ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقلیتوں میں شامل ہے۔ مختلف شہروں جیسے ٹورنٹو، ملٹن، مسی ساگا، کیلگری اور وینکوور میں مسلمانوں کی خاصی بڑی آبادی ہے، جو تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، اور کاروبار جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی شمولیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے انتخابات میں مسلم ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالا، اور متعدد مسلم امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں سے انتخابی میدان میں اترے۔ اب جبکہ امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف بیانیہ دوبارہ ابھرنے کا خدشہ ہے، کینیڈا کے مسلمان پہلے سے زیادہ چوکس، باخبر اور متحرک نظر آ رہے ہیں۔ٹرمپ کی سیاست اور مسلم خوفڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی صدارت کے دوران مسلمانوں کو جن پالیسیز کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سب سے نمایاں “مسلم بین” تھی — ایک ایسا فرمان جس کے تحت کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کو دہشتگردی سے جوڑنے کے متعدد بیانات نے مسلم کمیونٹیز میں گہری تشویش پیدا کی۔اگر ٹرمپ دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ خدشہ موجود ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ سخت پالیسیاں نافذ کریں گے۔ اگرچہ کینیڈا ایک خودمختار ملک ہے، مگر اس کا امریکہ سے گہرا سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی تعلق ہے۔ ایسے میں امریکہ کی مسلم مخالف پالیسیاں کینیڈین فضا کو بھی متاثر کر سکتی ہیں — چاہے وہ امیگریشن پالیسی ہو، بین الاقوامی تعلقات، یا مسلمانوں کے لیے معاشرتی قبولیت کا مسئلہ۔کینیڈا کی سیاسی جماعتوں کی پوزیشنکینیڈا کی تین بڑی سیاسی جماعتیں — لبرلز، کنزرویٹو اور نیو ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) — مسلم کمیونٹی سے مختلف انداز میں مخاطب ہوتی رہی ہیں۔ لبرل پارٹی نے تاریخی طور پر امیگریشن پالیسیوں میں نرمی، پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنے اور مذہبی آزادیوں کے تحفظ کی بات کی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں فلسطین کے مسئلے، اسلاموفوبیا پر مبہم ردعمل، اور بعض قانون سازی جیسے Bill 21 پر خاموشی نے مسلم ووٹرز میں سوالات کو جنم دیا ہے۔NDP نسبتاً زیادہ فعال نظر آتی ہے، خاص طور پر اسلاموفوبیا، نسلی امتیاز، اور فلسطینیوں کے حقوق پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے۔ مسلم کمیونٹی کے بہت سے نوجوان اس پارٹی کو متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔دوسری جانب، کنزرویٹو پارٹی کا ووٹ بینک عام طور پر روایتی اور بعض اوقات متنازعہ پالیسیوں کی طرف مائل رہا ہے، جس کے باعث مسلمانوں میں اس پارٹی پر اعتماد محدود رہا ہے۔مسلم ووٹرز کی بڑھتی ہوئی اہمیتکینیڈا میں کئی ایسے انتخابی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹرز کی تعداد فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ ان حلقوں میں مسلم ووٹ کسی بھی جماعت کے لیے الیکشن جیتنے یا ہارنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں مسلم کمیونٹی کے مسائل کو سنجیدگی سے لیں، ان سے مکالمہ کریں، اور ان کے خدشات کا حل پیش کریں۔مسلمان ووٹرز اب صرف امیگریشن یا مذہبی آزادی جیسے مسائل پر ووٹ نہیں دیتے، بلکہ معیشت، ماحول، صحت، تعلیم، اور عالمی انصاف جیسے موضوعات پر بھی ان کی دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ خاص طور پر نوجوان مسلم ووٹرز سوشل جسٹس، ماحولیاتی تبدیلی، اور بین الاقوامی انسانی حقوق جیسے مسائل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ٹرمپ کی واپسی کا ممکنہ اثر: ایک “سائیڈ ایفیکٹ”اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بن جاتے ہیں، تو اس کے اثرات کئی طریقوں سے کینیڈا پر مرتب ہو سکتے ہیں:1. امیگریشن پالیسی پر دباؤ: امریکہ اگر مسلمانوں کے لیے امیگریشن سخت کر دیتا ہے تو کینیڈا پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مزید مسلم پناہ گزینوں کو جگہ دے۔2. اسلاموفوبیا کے رجحانات امریکی بیانیہ اکثر کینیڈین سوشل میڈیا اور عام فضا کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرمپ جیسے بیانات سے نفرت انگیز جرائم میں اضافے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔3. بین الاقوامی پالیسی میں چیلنجز ٹرمپ کی پالیسی اسرائیل یا دیگر بین الاقوامی تنازعات پر سخت اور یکطرفہ ہو سکتی ہے، جس سے کینیڈا کی پوزیشن مشکل میں آ سکتی ہے، خاص طور پر اگر مسلم ووٹرز کسی متوازن موقف کی توقع رکھتے ہوں۔نتیجہ: بیداری، شرکت اور قیادت کی ضرورتکینیڈا میں آئندہ انتخابات مسلم کمیونٹی کے لیے نہایت اہم ہیں— نہ صرف اس لیے کہ وہ بطور ووٹر ایک اہم قوت ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اب سیاسی گفتگو کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ٹرمپ کی ممکنہ واپسی، اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحانات، اور عالمی سیاست میں مسلمانوں کے خلاف بیانیے کو دیکھتے ہوئے، کینیڈین مسلم کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اپنے ووٹ کا مؤثر استعمال کرے بلکہ اپنی نمائندگی کو مضبوط کرے، سیاسی شعور کو فروغ دے، اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کو تقویت دے۔انتخابات محض کسی پارٹی کو اقتدار دلوانے کا عمل نہیں، بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہیں کہ ایک کمیونٹی کس طرح اپنے مستقبل کو متعین کرنا چاہتی ہے۔ اب وقت ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی آواز کو مزید بلند کرے — باوقار، باخبر اور متحد ہو کر۔ -
میپل لیف میں بُنا گیا ایک رنگ: کینیڈا کی تاریخ میں مسلمانوں کا کردار
میپل لیف میں بُنا گیا ایک رنگ: کینیڈا کی تاریخ میں مسلمانوں کا کردارکینیڈا کی تاریخ کا جب ذکر ہوتا ہے تو ہمارے ذہن میں عموماً چند مخصوص طبقات یا قوموں کا تاثر ابھرتا ہے، لیکن اس وسیع اور متنوع ملک کی کہانی میں ایک خاموش مگر مضبوط کردار بھی شامل ہے — مسلمانوں کا کردار۔ اگرچہ آج کینیڈا میں مسلمانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، لیکن ان کی موجودگی کی تاریخ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانی ہے۔یہ کہانی صرف ہجرت کی نہیں، بلکہ حوصلے، جدوجہد، کامیابی اور کردار سازی کی ہے۔ابتدائی قدم: جہاں سے سفر شروع ہواکینیڈا میں مسلمانوں کی موجودگی کی سب سے پہلی دستاویزی مثال 1854 میں سامنے آتی ہے، جب اونٹاریو کے ایک شخص، جیمز لو، نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور مشرقی یورپ سے مسلمان ہجرت کر کے مغربی کینیڈا، خاص طور پر البرٹا اور سسکیچیوان میں آ بسے۔1938 میں مسلمانوں نے ایڈمنٹن، البرٹا می**الراشد مسجد** قائم کی — جو کینیڈا کی پہلی مسجد اور شمالی امریکہ کی اولین مساجد میں سے ایک تھی۔ یہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس بات کی علامت تھی کہ مسلمان کینیڈا میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ معاشرے کے ساتھ جُڑ کر چلنے کا عزم رکھتے ہیں۔تعمیرِ ملت: ایک برادری کا قیاموقت کے ساتھ ساتھ کینیڈا میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، خصوصاً 1960 اور 70 کی دہائیوں میں جب امیگریشن قوانین میں نرمی آئی۔ پاکستان، لبنان، مصر، صومالیہ، اور بوسنیا جیسے ممالک سے مسلمان یہاں آ کر آباد ہونے لگے۔انہوں نے نہ صرف کاروبار شروع کیے بلکہ تعلیمی ادارے، اسلامی مراکز، اور کمیونٹی ہالز بھی قائم کیے۔ ان مراکز نے نہ صرف دینی خدمات انجام دیں بلکہ کمیونٹی کو جوڑنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔قیادت، کامیابی، اور اثراتکینیڈین مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ سیاست میں **سینیٹر مبینہ جعفر**، جو پہلی مسلمان خاتون سینیٹر بنیں، اور **احمد حسین**، جو صومالیہ سے بطور پناہ گزین آئے اور بعد میں امیگریشن کے وزیر بنے — ان جیسے افراد اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ مسلمان نہ صرف اس معاشرے کا حصہ ہیں بلکہ اس کی سمت متعین کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔تجارت، طب، قانون، تعلیم، میڈیا، اور فنون لطیفہ — ہر شعبے میں مسلمان کینیڈین ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی تحریریں، فلمیں، اور تخلیقات نہ صرف غلط فہمیوں کو دور کر رہی ہیں بلکہ ایک کثیرالثقافتی معاشرے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں۔آزمائشیں اور عزماگرچہ مسلمان کینیڈین کمیونٹی نے بے پناہ ترقی کی ہے، مگر اس سفر میں چیلنجز بھی کم نہیں رہے۔ 9/11 کے بعد اسلاموفوبیا کا بڑھنا، **2017 میں کیوبیک مسجد حملہ**، اور **2021 میں لندن اونٹاریو میں ایک مسلمان خاندان پر دہشت گرد حملہ** جیسے واقعات کینیڈا کے لیے لمحہ فکریہ تھے۔لیکن ان سانحات کے باوجود مسلمان کمیونٹی نے اتحاد، خدمت اور مکالمے کے ذریعے معاشرے کو مزید قریب لانے کا کام کیا۔ مساجد نے اپنے دروازے مزید کھول دیے، بین المذاہب تقریبات میں اضافہ ہوا، اور نوجوانوں نے قیادت سنبھالی۔مستقبل کی راہیںآج کینیڈا میں مسلمان آبادی 4 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ ایک متنوع گروہ ہے، جو مختلف ثقافتوں، زبانوں اور پس منظر پر مشتمل ہے۔یہ صرف ہجرت کی کہانی نہیں — بلکہ یہ برادری، قیادت اور شناخت کی کہانی ہے۔ مسلمان کینیڈین صرف اس ملک میں شامل نہیں، بلکہ اس کے مستقبل کو تشکیل دینے والے بھی ہیں۔مسلمان کینیڈین اس کہانی کے صرف کردار نہیں بلکہ اس کے مصنف بھی ہیں — اور اگلا باب ان کے ہاتھوں میں ہے۔ -
تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ: ایک تشویش ناک رجحان
کینیڈا میں تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ: ایک تشویش ناک رجحانکینیڈا ایک کثیر الثقافتی ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آ کر آباد ہوتے ہیں۔ یہ ملک اپنے تعلیمی مواقع، معاشی استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے مشہور ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ایک تشویش ناک رجحان سامنے آیا ہے: کینیڈا میں تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ۔ یہ مسئلہ نہ صرف صحت کے لیے خطرہ ہے بلکہ ان نوجوانوں کی زندگیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کا رجحانکینیڈا کے مختلف شہروں میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح مقامی نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، 18 سے 24 سال کی عمر کے تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ مقامی نوجوانوں کی نسبت تقریباً 10 فیصد زیادہ ہے۔اسباب: کیوں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہےتارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں:معاشرتی تنہائی: نئے ملک میں آ کر نوجوانوں کو ثقافتی اور معاشرتی فرق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تنہائی انہیں منشیات کے استعمال کی طرف مائل کرتی ہے تاکہ وہ خود کو بہتر محسوس کریں۔خاندانی مسائل: بعض اوقات والدین کی مصروفیت یا طلاق جیسے مسائل نوجوانوں کو جذباتی طور پر متاثر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں۔تعلیمی دباؤ: تعلیمی کامیابی کے لیے دباؤ اور مقابلے کی فضا نوجوانوں کو ذہنی تناؤ کا شکار بناتی ہے، جس سے وہ منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔دوستی کا اثر: بعض اوقات منشیات کا استعمال دوستوں یا گروپ کے دباؤ کی وجہ سے شروع ہوتا ہے۔ جب نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جو منشیات استعمال کرتے ہیں، تو وہ بھی اس عادت کو اپنا لیتے ہیں۔ثقافتی فرق: بعض تارکین وطن خاندانوں میں منشیات کے استعمال کو ایک معمولی بات سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات کم ہوتے ہیں۔منشیات کے استعمال کے اثراتمنشیات کا استعمال نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرتی تعلقات اور خاندانی روابط بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ طویل عرصے تک منشیات کے استعمال سے ذہنی بیماریوں جیسے کہ ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔کینیڈا میں منشیات کے استعمال کے بارے میں اعداد و شمارکینیڈا کے قومی ادارہ برائے صحت (Public Health Agency of Canada) کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2019 میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح 20 فیصد تھی۔ اس میں تارکین وطن نوجوانوں کی شرح مقامی نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں، 2021 میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ایک تشویش ناک اضافہ ہے۔حل: اس مسئلے کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات میں نہیں بلکہ کمیونٹی، خاندان اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کوششوں میں ہے۔ چند اہم اقدامات جو اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:1. آگاہی مہمات: نوجوانوں میں منشیات کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز میں ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔2. مشاورت اور معاونت: نوجوانوں کو ذہنی دباؤ اور جذباتی مسائل کے لیے مشاورت فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس سے وہ منشیات کے استعمال سے بچ سکتے ہیں۔3. خاندانی تعلیم: والدین کو منشیات کے اثرات اور ان کے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔4. کمیونٹی کی شمولیت: کمیونٹی کی سطح پر پروگرامز اور سرگرمیاں منعقد کرنا نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھ سکتا ہے، جس سے وہ منشیات سے دور رہیں گے۔5. حکومتی پالیسیاں: حکومت کو منشیات کے استعمال کے خلاف سخت پالیسیاں اپنانا ہوں گی اور نوجوانوں کے لیے معاونت کے مراکز قائم کرنا ہوں گے۔کینیڈا میں تارکین وطن نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات میں نہیں بلکہ کمیونٹی، خاندان اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کوششوں میں ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس مسئلے کا مقابلہ کریں تو ہم اپنے نوجوانوں کو ایک صحت مند اور خوشحال مستقبل دے سکتے ہیں۔ -
اپنی زبان، اپنی پہچان — کینیڈا میں مقیم تارکین وطن خاندانوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ
اپنی زبان، اپنی پہچان — کینیڈا میں مقیم تارکین وطن خاندانوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہکینیڈا جیسے متنوع ملک میں تارکین وطن خاندان ہونا ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت کے رنگوں سے روشناس کراتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے بچے ایسے ماحول میں بڑے ہوتے ہیں جہاں انگریزی یا فرانسیسی زبان غالب ہوتی ہے، تو ہماری مادری زبان—جو ہماری پہچان اور وراثت کی علامت ہے—پس منظر میں چلی جاتی ہے۔تاہم، بچوں کو اپنی زبان سکھانا صرف ایک تعلیمی عمل نہیں بلکہ ایک جذباتی، ثقافتی اور ذہنی ترقی کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ اپنی زبان کی تعلیم بچوں کے لیے کس قدر اہم ہے اور یہ انہیں کن کن جہتوں میں فائدہ پہنچاتی ہے۔ثقافت اور شناخت سے جڑنے کا ذریعہمادری زبان خاندان کی ثقافت کا دل ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس کے ذریعے ہم کہانیاں سناتے ہیں، روایات آگے بڑھاتے ہیں، اور اپنی جڑوں سے جُڑے رہتے ہیں۔تارکین وطن بچوں کے لیے مادری زبان سیکھنا صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ جاننے کا وسیلہ ہے کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور ان کی اصل کیا ہے۔ جب بچے وہی زبان بولتے ہیں جو ان کے والدین اور دادا دادی بولتے ہیں، تو وہ ایک ایسی تاریخ اور وراثت سے جُڑتے ہیں جو ان کے ذاتی تجربات سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔روایتی تہواروں کی خوشیاں ہوں یا کہانیوں کی محفلیں، اپنی زبان میں یہ سب محسوس کرنا ایک ایسا تجربہ ہے جو صرف انگریزی یا فرانسیسی میں مکمل طور پر ممکن نہیں۔ذہنی طاقت کا خزانہ — دو لسانی بچوں کی خصوصیاتدو زبانیں بولنے والے بچے نہ صرف جذباتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان کی دماغی صلاحیتیں بھی غیر معمولی ہوتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دو یا زیادہ زبانیں بولنے والے بچوں میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت بہتر، تخلیقی سوچ میں اضافہ، اور دماغی لچک زیادہ ہوتی ہے۔بچپن میں مختلف زبانیں سیکھنا دماغ کی نشوونما کو بہتر بناتا ہے، یادداشت کو تقویت دیتا ہے، اور عمر کے ساتھ ذہنی کمزوری کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ یوں اپنی زبان سیکھنا مستقبل کے لیے ذہنی پختگی کی ایک مشق بن جاتا ہے۔خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہتارکین وطن خاندانوں میں بزرگوں سے جُڑنا ایک اہم جزو ہوتا ہے، لیکن زبان کی دیوار اس تعلق کو کمزور کر سکتی ہے۔ بچوں کو خاندان کی زبان سکھانے سے وہ اپنے دادا، دادی، نانا، نانی سے گہرے تعلق قائم کر سکتے ہیں، ان کی باتوں، نصیحتوں اور روایات کو سمجھ سکتے ہیں۔ذرا تصور کیجیے کہ ایک نانی جب اپنی زبان میں اپنی پُرانی کہانیاں، تجربات اور پیار بانٹتی ہے تو اس لمحے کی اہمیت کیا ہوگی۔ یہ جذباتی رشتہ ہی وہ کڑی ہے جو نسلوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔کثیر الثقافتی سوچ اور عالمی مواقعوں کی طرف قدمکینیڈا ایک کثیر الثقافتی ملک ہے، جہاں مختلف زبانوں اور قومیتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ایسے میں اپنی زبان سکھانا بچوں کو ایک انوکھا فائدہ دیتا ہے—وہ مختلف نظریات کو سمجھتے ہیں، دوسروں کی ثقافت کا احترام کرتے ہیں اور عالمی سوچ کے حامل بنتے ہیں۔مزید برآں، زبانیں جاننا بین الاقوامی مواقع کے دروازے کھولتا ہے۔ چاہے وہ سفر ہو، بیرون ملک تعلیم یا ملازمت، یا دنیا بھر میں تعلقات بنانے کا ہنر—دو لسانی بچے خود کو اعتماد کے ساتھ کسی بھی ماحول میں پیش کر سکتے ہیں۔جذباتی سکون اور احساسِ وابستگینئے ملک میں زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بچوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ دو ثقافتوں کے بیچ میں ہوتے ہیں۔ ایسے میں مادری زبان کا سہارا انہیں جذباتی سکون اور ثقافتی وابستگی فراہم کرتا ہے۔اپنے جذبات کو اپنی زبان میں بیان کرنے کی آزادی، بچوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنی شناخت کے دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں—نہ صرف کینیڈین بن کر، بلکہ اپنی روایات کے وارث بھی۔تعلیمی کامیابی اور مستقبل کے امکاناتکینیڈا میں دو لسانی صلاحیت کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر بچے اپنی مادری زبان کے ساتھ انگریزی یا فرانسیسی بھی جانتے ہوں تو انہیں نہ صرف تعلیمی میدان میں برتری حاصل ہوتی ہے بلکہ پیشہ ورانہ دنیا میں بھی کئی مواقع میسر آتے ہیں۔حکومت، کاروبار، بین الاقوامی تعلقات اور سیاحت جیسے شعبوں میں زبان کی مہارت ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ایک زبان اضافی جاننے سے وہ مقابلے کی دوڑ میں کئی قدم آگے نکل سکتے ہیں۔ایک قیمتی وراثت — نسلوں کے لیے تحفہبچوں کو اپنی زبان سکھانا صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ اپنی پہچان، روایات اور جذباتی وراثت کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو انہیں نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی اور جذباتی طور پر بھی مضبوط بناتا ہے۔کینیڈا جیسے ملک میں جہاں مختلف زبانیں اور ثقافتیں پھلتی پھولتی ہیں، اپنی زبان کو اپنانا ایک ایسی طاقت ہے جو عمر بھر فائدہ دیتی ہے۔تو یاد رکھیں، جو زبان آج آپ اپنے بچوں سے بولتے ہیں، وہی آپ کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی وراثت بن کر رہے گی۔ آغاز کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی—چاہے آپ پہلے سے اس پر عمل کر رہے ہوں یا ابھی شروع کر رہے ہوں، اپنی زبان کو زندہ رکھنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے ثمرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ -
اونٹاریو میں بڑھتے ہوئے بجلی کے بلز سے نجات — ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام کیا ہے؟
اونٹاریو میں بڑھتے ہوئے بجلی کے بلز سے نجات — ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام کیا ہے؟حالیہ برسوں میں اونٹاریو کے بہت سے رہائشیوں کو بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خاص طور پر بجلی کے (ہائیڈرو) بلز نے خاندانوں، بزرگوں اور کم آمدنی والے گھروں کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ پیدا کر دیا ہے۔ اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے، اونٹاریو کی حکومت نے اونٹاریو انرجی سیونگز اتھارٹی (OESA) کے اشتراک سے ایک ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام متعارف کرایا ہے، جو مالی مدد کے ساتھ ساتھ توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام کیا ہے؟یہ پروگرام اُن افراد اور خاندانوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو بجلی کے زیادہ بلوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے اہل افراد کو مالی معاونت یا توانائی کے استعمال میں کمی لانے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔یہ اقدام خاص طور پر اُن لوگوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے جو کم آمدنی، بڑھاپے یا دیگر حساس حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔اونٹاریو انرجی سیونگز اتھارٹی (OESA) اس پروگرام کے نفاذ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، اور مقامی یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اہل صارفین کو سبسڈی، ریبیٹ اور دیگر مالی مراعات فراہم کرتی ہے۔ یہ پروگرام ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد اونٹاریو میں توانائی کو سب کے لیے زیادہ قابلِ برداشت بنانا ہے، خاص طور پر اُن اوقات میں جب موسم کی شدت کے باعث توانائی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔یہ پروگرام کیسے کام کرتا ہے؟ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام مختلف اقسام کی مالی مدد اور توانائی کی بچت کے آپشنز فراہم کرتا ہے۔ اس کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:انرجی بل سبسڈیاہل خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد دی جاتی ہے تاکہ وہ بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کر سکیں۔ یہ امداد آمدنی، خاندان کے افراد کی تعداد یا دیگر عوامل کی بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے۔ڈسکاؤنٹس اور ریبیٹسکم آمدنی والے صارفین کے لیے بجلی کے استعمال پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے، جس سے ماہانہ بلوں میں خاطر خواہ فرق پڑتا ہے اور خاندان بہتر مالی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔توانائی کی بچت کی مہماتOESA رہائشیوں کو توانائی کی بچت کے مشورے اور کم قیمت یا مفت توانائی بچانے والے آلات فراہم کرتا ہے جیسے کہ ایل ای ڈی بلب یا سمارٹ تھرموسٹیٹ۔ ان اقدامات کے ذریعے لوگ اپنے بجلی کے طویل مدتی اخراجات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ادائیگی کی سہولتیںاگر کوئی صارف مالی مسائل کا شکار ہو تو پروگرام قسطوں میں ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس سے صارفین کو اپنے واجب الادا بلوں کو آرام سے ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، بغیر کسی کٹاؤ یا جرمانے کے خوف کے۔کون لوگ اس پروگرام کے لیے اہل ہیں؟ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام کے لیے اہلیت کا انحصار بنیادی طور پر آمدنی، خاندان کے افراد کی تعداد، اور دیگر مخصوص عوامل پر ہوتا ہے۔ کم آمدنی والے گھرانے، بزرگ افراد، یا وہ افراد جو کسی ناگہانی مالی صورتِ حال (مثلاً ملازمت کا ختم ہو جانا یا طبی مسائل) کا سامنا کر رہے ہوں، ترجیحی بنیادوں پر امداد کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔جو افراد اس پروگرام سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اونٹاریو انرجی سیونگز اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جائیں یا اپنی مقامی یوٹیلیٹی کمپنی سے رابطہ کریں تاکہ اہلیت کی تفصیلات اور درخواست کے طریقہ کار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔یہ پروگرام کیوں اہم ہے؟بجلی کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، ہائیڈرو بل ریلیف پروگرام اُن ہزاروں اونٹاریو باشندوں کے لیے ایک قیمتی سہارا ہے جو مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ نہ صرف کمزور طبقے کو ضروری خدمات سے جڑے رہنے میں مدد فراہم کرتا ہے، بلکہ انہیں مالی تباہی سے بچانے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔یہ پروگرام مالی معاونت، توانائی کی بچت، اور لچکدار ادائیگی کے ذریعے ایک ایسا راستہ فراہم کرتا ہے جو نہ صرف بجلی کے اخراجات کو کم کرتا ہے بلکہ ایک پائیدار اور مساوی توانائی کا نظام تشکیل دیتا ہے۔چاہے آپ کو براہِ راست مالی امداد کی ضرورت ہو یا بجلی کے استعمال میں کمی کی، یہ پروگرام اونٹاریو کے ضرورت مند رہائشیوں کے لیے روشنی کی کرن ہے۔ -
ڈیجیٹل دور میں بزرگ شہریوں کا تحفظ: فون اور آن لائن فراڈ سے کیسے بچیں؟
ڈیجیٹل دور میں بزرگ شہریوں کا تحفظ: فون اور آن لائن فراڈ سے کیسے بچیں؟آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، وہیں یہ فراڈ کے نئے طریقے بھی لے آئی ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوں کے لیے۔ کینیڈا میں بہت سے سینئر افراد انٹرنیٹ یا فون کے ذریعے ہونے والے فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ یا تو وہ نئی ٹیکنالوجی سے ناواقف ہوتے ہیں یا ناتجربہ کاری کی بنا پر دھوکہ کھا لیتے ہیں۔تاہم، کچھ آسان مگر مؤثر تدابیر اپنا کر بزرگ افراد خود کو ان دھوکہ دہی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ آئیں جانتے ہیں وہ کون سی احتیاطیں ہیں جو آن لائن اور فون فراڈ سے بچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔آن لائن فراڈ سے تحفظمحفوظ اور منفرد پاسورڈ استعمال کریںبزرگ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ایسے مضبوط پاسورڈ استعمال کریں جن میں بڑے اور چھوٹے حروف، اعداد اور خاص علامات شامل ہوں۔ 123456 یا password جیسے آسان پاسورڈز سے اجتناب کریں۔ ایک پاسورڈ مینیجر استعمال کرنے سے مختلف محفوظ پاسورڈز کو منظم رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ٹو فیکٹر تصدیق فعال کریںٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن آپ کے اکاؤنٹ کو مزید محفوظ بنانے کا طریقہ ہے، جس میں لاگ ان کرتے وقت ایک اضافی کوڈ درکار ہوتا ہے۔ بینکنگ، ای میل یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر یہ فیچر لازماً فعال کریں۔مشکوک ای میلز اور لنکس سے ہوشیار رہیںفشنگ ای میلز فراڈ کا عام ذریعہ بن چکی ہیں، جو بظاہر بینک، حکومت یا کمپنیوں کی طرف سے آتی ہیں لیکن درحقیقت ذاتی معلومات چوری کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ایسی ای میلز میں موجود لنکس یا فائلیں نہ کھولیں، اور اگر شک ہو تو متعلقہ ادارے سے براہ راست رابطہ کریں۔اینٹی وائرس اور اینٹی مالویئر سافٹ ویئر انسٹال کریںاپنے کمپیوٹر یا موبائل میں جدید اینٹی وائرس سافٹ ویئر انسٹال رکھیں اور وقتاً فوقتاً اسے اپڈیٹ کرتے رہیں۔ یہ وائرس، رینسم ویئر اور دیگر نقصان دہ سافٹ ویئر سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر اجنبیوں سے محتاط رہیںسوشل میڈیا پر اجنبی لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے سے گریز کریں۔ اپنے گھر کا پتہ، فون نمبر یا مالی معلومات کبھی شیئر نہ کریں۔خریداری سے پہلے ویب سائٹ کی سیکیورٹی چیک کریںآن لائن خریداری کرتے وقت ویب سائٹ کا https اور ایڈریس بار میں تالے کا نشان دیکھیں۔ اگر یہ نشان نہ ہو تو خریداری سے گریز کریں۔معروف شاپنگ ویب سائٹس استعمال کریںAmazon، Walmart یا دیگر معروف کینیڈین ویب سائٹس سے خریداری کریں۔ غیر معروف یا مشکوک سائٹس سے گریز کریں، اور خریداری سے پہلے ریویوز ضرور چیک کریں۔فون فراڈ سے بچاؤذاتی معلومات فون پر نہ دیںکسی بھی اجنبی کال پر اپنا سوشل انشورنس نمبر، کریڈٹ کارڈ یا بینک معلومات نہ بتائیں۔ جائز ادارے فون پر ایسی معلومات نہیں مانگتے۔روبو کالز اور مشکوک کالز پر فوراً فون بند کریںاگر کال خودکار آواز پر ہو یا مشکوک لگے تو فوراً کال کاٹ دیں۔ اگر واقعی ضروری ہوا تو ادارہ دوبارہ رابطہ کرے گا۔کالر کی شناخت کی تصدیق کریںاگر کوئی کہے کہ وہ بینک یا یوٹیلٹی کمپنی سے ہے، تو معلومات دینے کے بجائے کال کاٹ کر آفیشل نمبر پر ادارے سے خود رابطہ کریں۔ڈو ناٹ کال لسٹ میں اپنا نمبر رجسٹر کریںکینیڈا میں National Do Not Call List پر رجسٹریشن سے جائز مارکیٹنگ کالز بند ہو جاتی ہیں، جس سے فراڈ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔کال بلاک کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال کریںفون کمپنیوں یا ایپس کے ذریعے مشکوک نمبرز کو بلاک کیا جا سکتا ہے، تاکہ ایسے فراڈ کالز آپ تک پہنچ ہی نہ سکیں۔عمومی احتیاطی تدابیرکسی قریبی فرد سے مشورہ ضرور کریںاگر کوئی آفر یا کال مشکوک لگے تو کسی قابل اعتماد دوست، رشتہ دار یا دیکھ بھال کرنے والے شخص سے ضرور مشورہ کریں۔فراڈ کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیںاگر آپ فراڈ کا شکار ہو جائیں یا شک ہو، تو فوری طور پر Canadian Anti-Fraud Centre یا Better Business Bureau سے رابطہ کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی محفوظ رہیں۔اپنے آپ کو باخبر رکھیںمقامی اخبارات، کمیونٹی سینٹرز اور سرکاری ویب سائٹس کے ذریعے نئے فراڈز کے بارے میں جانتے رہیں۔ آگاہی ہی سب سے مضبوط دفاع ہے۔اگرچہ فراڈ کے طریقے روز بروز تبدیل ہو رہے ہیں، لیکن چند بنیادی حفاظتی اقدامات اپنا کر بزرگ شہری خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ مضبوط پاسورڈز، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن، اور مشکوک آفرز سے محتاط رہ کر وہ نہ صرف فراڈ سے بچ سکتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں اعتماد کے ساتھ قدم رکھ سکتے ہیں۔ اپنے قریبی افراد کے تعاون سے، بزرگ افراد ایک محفوظ اور پراعتماد آن لائن اور فون تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔اگر آپ اس مواد کو کسی مخصوص فارمیٹ میں چاہتے ہیں (جیسے Word یا PDF)، تو بتائیں، میں فوراً تیار کر دیتا ہوں۔ -
کینیڈا میں گھریلو ذمہ داریوں پر بچت کرناسیکھیں
کینیڈا میں کھانے پینے کی اشیاء پر بچت کرنا مہنگائی کے باعث ایک چیلنج ہو سکتا ہے، لیکن تھوڑی سی منصوبہ بندی اور سمجھداری سے خریداری کے ذریعے آپ اپنی گروسری کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں۔ یہاں چند عملی مشورے دیے جا رہے ہیں:1. کھانوں کی منصوبہ بندی کریں اور خریداری کی فہرست بنائیںہر ہفتے تھوڑا وقت نکال کر کھانے کی منصوبہ بندی کریں تاکہ غیر ضروری چیزوں کی خریداری سے بچا جا سکے۔ فہرست تیار کر کے صرف اس کے مطابق خریداری کریں۔2. فلائرز اور کوپنز سے فائدہ اٹھائیںگروسری اسٹورز ہفتہ وار سیلز کے فلائرز جاری کرتے ہیں، ان میں موجود رعایتوں کے مطابق کھانے کی منصوبہ بندی کریں۔ کوپن ایپس جیسے فِلپ یا ریبی استعمال کریں اور لائلٹی پروگرامز کا حصہ بنیں جیسے پی سی آپٹیمم یا سین پلس۔3. بلک میں خریداری کریںکوسٹکو، بلک بارن جیسے اسٹورز سے نان پرش ایبل اشیاء جیسے چاول، پاستا، ٹن فوڈ، فریز سبزیاں بلک میں سستے داموں خریدیں۔ فریزنگ کے ذریعے پرش ایبل چیزوں کو بھی سنبھال کر رکھا جا سکتا ہے۔4. سستے اسٹورز سے خریداری کریںنو فرلز، فوڈ بیسکس، فریش کو، اور والمارٹ جیسے اسٹورز اکثر کم قیمت پر بنیادی اشیاء فراہم کرتے ہیں۔ مقامی کسانوں کی مارکیٹ سے بھی تازہ اور سستی سبزیاں خریدی جا سکتی ہیں۔5. اسٹور برانڈز کو ترجیح دیںنامی گرامی برانڈز کے بجائے اسٹور کے اپنے برانڈ کی اشیاء خریدیں، جو عموماً سستی اور معیاری ہوتی ہیں۔6. موسمی پھل اور سبزیاں خریدیںموسمی پھل اور سبزیاں سستی اور تازہ ہوتی ہیں۔ جب کوئی چیز آف سیزن ہو تو اس کا فریز شدہ متبادل بھی مفید ہوتا ہے۔7. بھوکے ہو کر خریداری سے گریز کریںجب آپ بھوکے ہوں تو غیر ضروری اور مہنگی اشیاء خریدنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس لیے خریداری سے پہلے کچھ کھا لیں۔8. گوشت بڑی مقدار میں خرید کر فریز کریںسستا پڑنے کے لیے بڑے پیس گوشت خریدیں اور خود چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں، پھر فریز کر لیں۔9. اسٹور کے ارد گرد خریداری پر توجہ دیںزیادہ تر اسٹورز میں صحت مند اور کم پراسیس شدہ اشیاء جیسے سبزیاں، گوشت، دودھ وغیرہ کناروں پر رکھی ہوتی ہیں، جب کہ مہنگی اور پراسیسڈ اشیاء درمیان میں۔10. آن لائن رعایتوں سے فائدہ اٹھائیںآن لائن خریداری کے دوران خصوصی ڈسکاؤنٹس یا پروموشنز دستیاب ہوتے ہیں۔ ریڈ فلیگ ڈیلز جیسی ویب سائٹس قیمتوں کا موازنہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔11. کیش بیک ایپس استعمال کریںچیک آؤٹ 51، آئی بوٹا جیسی ایپس کے ذریعے خریداری کے بعد رسید اپلوڈ کر کے کیش بیک حاصل کریں۔ پی سی آپٹیمم جیسے پروگرام بھی پوائنٹس کے ذریعے بچت میں مددگار ہیں۔12. اپنے ہربز اور سبزیاں اگائیںگھر کے اندر بھی کھڑکی کے قریب بیسل، پودینہ، دھنیا جیسی جڑی بوٹیاں اگائی جا سکتی ہیں، جبکہ چھوٹے گملوں میں ٹماٹر، سلاد پتے اور مرچیں بھی اگائی جا سکتی ہیں۔13. سیلز کے دوران ذخیرہ اندوزی کریںجب نان پرش ایبل اشیاء جیسے چاول، پاستا، ٹن فوڈ یا فریز اشیاء پر سیل ہو تو ضرورت کے مطابق خریداری کریں، مگر زائد خریداری سے بچیں۔14. سہولت والی اشیاء سے پرہیز کریںپری کٹ سبزیاں، پہلے سے تیار کھانے مہنگے ہوتے ہیں۔ تازہ اجزاء سے خود کھانا بنانا سستا اور صحت مند ہوتا ہے۔15. سنگل سروس اور پیکڈ اشیاء سے گریز کریںسنگل پیک اسنیکس یا ریڈی ٹو ایٹ کھانے مہنگے ہوتے ہیں۔ بڑی مقدار میں اشیاء خرید کر خود چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔16. پینٹری اور فریزر منظم رکھیںہر خریداری سے پہلے چیک کریں کہ آپ کے پاس کیا موجود ہے۔ بقیہ کھانے کو ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کریں، جیسے پکی ہوئی سبزیاں سوپ میں اور بچا ہوا چاول اسٹر فرائی میں استعمال کریں۔اضافی مشورہ: اسٹور کی ترتیب سمجھیںاپنے اسٹور کی ترتیب کو جانیں اور پلان کے ساتھ خریداری کریں۔ پہلے نان پرش ایبل اشیاء خریدیں، آخر میں تازہ چیزیں لیں تاکہ غیر ضروری راستوں سے بچا جا سکے۔اختتامیہکینیڈا میں گروسری کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، لیکن اگر آپ پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور ہوشیاری سے خریداری کریں تو کافی پیسہ بچایا جا سکتا ہے۔ بلک خریداری، سیلز کا فائدہ اٹھانا، کوپنز اور وفاداری پروگرامز استعمال کرنا ان میں سے چند اہم طریقے ہیں۔ ان سادہ عادات سے نہ صرف آپ پیسے بچا سکتے ہیں بلکہ معیاری کھانا بھی گھر پر تیار کر سکتے ہیں۔ -

ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کینیڈا کے جھنڈوں کی فروخت میں اضافہ
کینیڈین شہریوں نے ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کو جواب دینے کیلئے جھنڈوں کا استعمال بڑھا دیا ہے
امریکی صدر ٹرمپ کی کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی دھمکی کے بعد منفرد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کینیڈا میں ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد وہاں جھنڈوں کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کینیڈا میں جھنڈوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوگیا ہے، کینیڈین شہریوں نے ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے جھنڈوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین پرچم ساز کمپنی ’فلیگ ان لمیٹڈ‘ کی فروخت ایک سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے، کمپنی کے مالکان نے کہا کہ پڑوسی ملک امریکا کے ساتھ تناؤ نے حب الوطنی کی لہر کو ہوا دی ہے۔